Share this link via
Personality Websites!
ذرا غورکیجئے کہ جب وہ زندہ تھا اور اسے کوئی تکلیف پہنچتی تو سب گھر والے بے چین ہوجاتے تھے ، اس کی بیماری میں ساری ساری رات جاگ کر اس کے سرہانے بیٹھ کر گزار دیا کرتے تھے ۔ اسے کوئی کانٹا چُبھتا تو اس کی تکلیف خود محسوس کرتے تھے ،لیکن مرنے کے بعد اس کی ساری محبتوں کو فراموش کر کے نہ جانے بیچارے کو کس طرح سَرد خانے میں رکھوا نے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں ۔
غسل کے وقت مُردے کو تکلیف دینا
ایسے ہی جب غسل دینے کا مرحلہ آتاہے تو علمِ دِین سے محرومی یا مُردے سے بے جا خوف کی بنا پر میت کے گھروالوں میں سے کوئی غسل دینے کیلئے تیار نہیں ہوتا تو پھر کوئی ایسا شخص غسل دینے کیلئے آگے بڑھ جاتا ہے جو سُنَّتوں اور آداب سے ناواقف ہوتا ہے اور بڑی بے دردی کے ساتھ میت کو غسل دے کر چلتا بنتا ہے حالانکہ مُردے کو غسل دیتے وقت بہت احتیاط اور نرمی کرنی چاہیے۔
حضرت سَیِّدُنا سُفیان ثوری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہےکہ مرنے والا ہر چیزکوجانتاہےحتی کہ غسّال(یعنی غُسل دینے والے ) سےکہتاہے کہ تجھےخُدائےرحمن کی قسم ہے تُو غسل میں میرے ساتھ نرمی کر۔(شرح الصدور، ص۹۵)
غُسل دینے کے لیے غسّال بھی اب آ چکا
غُسلِ میّت ہو رہا ہے اور کفن تیار ہے
یا نبی پانی سے سارا جسم میرا دُھل گیا
نامۂ اعمال کو بھی غُسل اب درکار ہے
(وسائلِ بخشش مُرمّم،ص479)
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami