30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیٹیگریز
کیٹیگریز
مصنف:
Al Madina-tul-Ilmiyah
پبلشر: Maktaba-tul-Madina
تاریخ اشاعت:
September 6 ,2018
کیٹیگری:
Malfuzat-e-Ameer-e-Ahl-e-Sunnat
,
Malfuzat Ameer-e-Ahl-e-Sunnat
آن لائن پڑھیں صفحات: 11
پی ڈی ایف صفحات: 33
یہ کتاب حج کی فرضیت اور بنیادی احکام کو آسان اور واضح انداز میں بیان کرتی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ حج کب فرض ہوا اور کن لوگوں پر لازم ہے۔ اس کے ساتھ سفرِ حج کی تیاری، ضروری احتیاطیں اور آبِ زم زم پینے کے آداب و فضائل کو مختصر اور جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
حج 9 ہجری میں فرض کیا گیا اور یہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ ہر اُس مسلمان پر زندگی میں ایک بار حج فرض ہے جو مالی، جسمانی اور سفری استطاعت رکھتا ہو۔
دلیل: قرآن میں ارشاد ہے:
قرآنی دلیل:“وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًاؕ-” (آل عمران: 97)
اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔
حج فرض کیے جانے کے مقاصد: اللہ کی عبادت اور مکمل بندگی کا اظہار ،امتِ مسلمہ کا عالمی اجتماع اور اتحاد ۔
تقویٰ، اخلاص اور روحانی پاکیزگی پیدا کرنا ہے اورسنتِ ابراہیمی کی پیروی اور یاد تازہ کرنا ہے
• اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے
حج محض ایک سفر نہیں بلکہ ایمان، صبر اور اطاعت کا عملی مظاہرہ ہے۔
حج کے سفر کے لیے ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی تیاری ضروری ہوتی ہے، تاکہ عبادت صحیح اور مکمل طور پر ادا ہو سکے۔
ضروری امور:
• حلال مال اور مالی استطاعت: حج کے تمام اخراجات حلال کمائی سے ہونے چاہئیں
• صحت اور جسمانی طاقت: کیونکہ حج میں مشقت اور جسمانی محنت شامل ہے
• سفری دستاویزات: پاسپورٹ، ویزا، ٹکٹ اور دیگر انتظامات
• احرام اور ضروری سامان:احرام، آرام دہ جوتے، ادویات وغیرہ
• دینی علم: حج کے مسائل، ارکان اور واجبات کا بنیادی علم ہونا ضروری ہے
استطاعت (مالی، جسمانی اور سفری) حج کے فرض ہونے کی بنیادی شرط ہے (آل عمران: 97)
بغیر علم کے حج کرنے سے غلطیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے، اس لیے پہلے سیکھنا ضروری ہے۔
آبِ زم زم ایک بابرکت پانی ہے جسے نبی کریم ﷺ نے خاص فضیلت والا قرار دیا ہے، اور اسے پینے کا ایک مسنون طریقہ بھی ہے۔
پینے کا مستحب طریقہ:
• اگر عمر پوری ہے اور صحت مند ہے تو قربانی ہو سکتی ہے
• قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو کر پینا . “بسم اللہ” پڑھ کر آغاز کرنا ، تین سانسوں میں پانی پینا ،پینے کے بعد دعا کرنا ہے
حدیث: “زم زم کا پانی جس نیت سے پیا جائے اسی کے لیے ہوتا ہے” (ابن ماجہ)
پیتے وقت اچھی نیت کریں (مثلاً: شفا، علم، رزق، مغفرت) ۔ دل سے دعا کریں کیونکہ یہ قبولیت کا خاص موقع ہوتا ہے
زم زم صرف پانی نہیں بلکہ روحانی برکت اور دعا کی قبولیت کا ذریعہ ہے۔
حج صرف اُس مسلمان پر فرض ہوتا ہے جو صاحبِ استطاعت ہو، اور استطاعت میں مالی حیثیت (قرض سے پاک ہونا یا ادائیگی کی قدرت) بھی شامل ہے۔
حکم کی تفصیل: اگر کسی شخص پر قرض ہے لیکن قرض ادا کرنے کے بعد بھی اس کے پاس اتنا مال باقی ہو کہ وہ آسانی سے حج کر سکے، تو اس پر حج فرض ہے۔
• اگر قرض اتنا زیادہ ہو کہ اسے ادا کرنے کے بعد حج کے اخراجات کے لیے مال باقی نہ بچے، تو اس پر حج فرض نہیں ہوتا۔
• اگر قرض فوری ادا کرنا لازم (due) ہو تو پہلے قرض ادا کرنا ضروری ہے
• نیت کریں کہ اس کا ثواب والدین کو پہنچے
• اگر قرض طویل مدت (long-term) کا ہو اور ادائیگی کا نظام باقاعدہ چل رہا ہو، تو فقہی طور پر تفصیل دیکھی جاتی ہے، لیکن احتیاط یہی ہے کہ پہلے قرض سے سبکدوشی حاصل کی جائے
• حقوق العباد (یعنی لوگوں کے حقوق) کو مقدم رکھا جاتا ہے
“وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا” (آل عمران: 97)
حج صرف اسی پر فرض ہے جو استطاعت رکھتا ہو
قرض کی ادائیگی کو شریعت میں بہت اہمیت حاصل ہے، اس لیے حج سے پہلے اسے ترجیح دی جاتی ہے۔
حج کے ارکان وہ بنیادی اعمال ہیں جن کے بغیر حج ادا نہیں ہوتا، اگر ان میں سے کوئی رہ جائے تو حج صحیح نہیں ہوتا۔
حج کے بنیادی ارکان:
دلیل:
1. احرام باندھنا:حج کی نیت کے ساتھ احرام باندھنا پہلا قدم ہے ۔احرام کے بغیر حج کا آغاز ہی نہیں ہوتا
2. وقوفِ عرفات (سب سے اہم رکن)
• 9 ذوالحجہ کو میدانِ عرفات میں ٹھہرنا لازمی ہے ۔یہی حج کا مرکزی اور سب سے عظیم رکن ہے
حدیث:“الحج عرفہ” (ترمذی) یعنی حج کا اصل اور بنیادی حصہ وقوفِ عرفات ہے
3. طوافِ زیارت (طوافِ افاضہ)
• بیت اللہ کا طواف کرنا جو حج کے بعد کیا جاتا ہے ۔ یہ بھی حج کے مکمل ہونے کے لیے ضروری ہے
• اگر وقوفِ عرفات رہ جائے تو حج ادا نہیں ہوتا ہے اوردیگر ارکان کی ادائیگی بھی لازم ہے، ورنہ حج ناقص ہو جاتا ہے