30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیٹیگریز
کیٹیگریز
مصنف:
Majlis-e-Ifta
پبلشر: Maktaba-tul-Madina
تاریخ اشاعت:
June 4 ,2025
کیٹیگری:
Fiqh-o-Usool-e-Fiqh
آن لائن پڑھیں صفحات: 33
پی ڈی ایف صفحات: 34
ISBN نمبر: N/A
یہ کتاب جانوروں کی خرید و فروخت سے متعلق شرعی مسائل کو واضح کرتی ہے، خصوصاً زندہ جانور کو وزن کے ذریعے بیچنے کے احکام پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ خون یا سانس کی وجہ سے وزن میں آنے والی تبدیلی کا شرعی حکم کیا ہے، اور خرید و فروخت میں اصل حیثیت کس چیز کو حاصل ہے تاکہ معاملات درست اور جائز طریقے سے انجام پائیں۔
جی ہاں، جانور کو وزن (کلو کے حساب سے) بیچنا اور خریدنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ معاملہ واضح اور شفاف ہو۔
تفصیل:
• اگر خریدار اور فروخت کنندہ قیمت اور وزن پر متفق ہوں تو خرید و فروخت درست ہے
• اس میں کوئی حرج نہیں کہ قیمت فی کلو کے حساب سے طے کی جائے
• شرط یہ ہے کہ دھوکہ، دھندلاپن (غرر) یا ابہام نہ ہو
فقہی اصول: بیع میں اصل شرط باہمی رضامندی اور وضاحت ہے
اہم نکتہ: اگر وزن یا قیمت میں دھوکہ ہو تو معاملہ ناجائز ہو سکتا ہے۔
جانور کے وزن میں خون شامل کرنا یا دھوکہ دہی کے لیے وزن بڑھانا ناجائز اور حرام ہے۔
تفصیل:جان بوجھ کر جانور کو ایسا کھلانا پلانا یا کوئی عمل کرنا جس سے وزن غیر حقیقی طور پر بڑھ جائے، دھوکہ ہے
• خریدار کو اصل حالت سے آگاہ کرنا ضروری ہے
حدیث:
“جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں” (صحیح مسلم)
اہم نکتہ:اسلام میں تجارت دیانت اور سچائی پر مبنی ہے، دھوکہ سخت منع ہے۔
اسلام میں جانور کی خرید و فروخت جائز ہے، بشرطیکہ وہ حلال اور شریعت کے اصولوں کے مطابق ہو۔
اہم شرائط:جانور حلال ہو ۔بیچنے والا اس کا مالک ہو ۔قیمت اور مال واضح ہو ۔دھوکہ، جھوٹ اور عیب چھپانا نہ ہو
قرآن: وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ (البقرہ: 275)
اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سُود
اہم نکتہ:اسلامی تجارت انصاف، شفافیت اور امانت داری پر قائم ہے۔
جانور بیچتے وقت دیانت داری اور شفافیت بنیادی اصول ہیں۔
ضروری امور: جانور کے تمام عیوب واضح بتائے جائیں ۔وزن اور قیمت میں سچائی اختیار کی جائے ۔
• جھوٹ یا مبالغہ نہ کیا جائے ۔خریدار کو مکمل معلومات دی جائیں
حدیث:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“بیچنے والا اور خریدنے والا اگر سچ بولیں اور عیب ظاہر کریں تو ان کی بیع میں برکت ہوتی ہے” (صحیح بخاری)
اہم نکتہ:سچائی تجارت میں برکت لاتی ہے جبکہ دھوکہ برکت ختم کر دیتا ہے۔
جانور کی خرید و فروخت میں اصل بنیاد “رضامندی، شفافیت اور دیانت” ہے۔
بنیادی اصول:
• دونوں فریق کی رضامندی (Mutual Consent)
• قیمت اور چیز کی وضاحت
• دھوکہ اور دھندلاپن سے پاک معاملہ
قرآن: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- (النساء: 29)
اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو
اہم نکتہ:اسلامی تجارت کا اصل مقصد انصاف اور اعتماد قائم کرنا ہے۔