آخر درست کیا ہے؟
“ تناسخ یا آواگون “ اسلامی نقطہ ٔنظر سے(قسط : 01)
* مفتی محمد قاسم عطاری
ماہنامہ اگست2021ء
کسی شخص کے انتقال کے بعد اُس کی روح کا اُس کے بدن سے نکل کر کسی دوسرے جسم میں منتقل ہوکر اُسی طرح جسم کے ساتھ تصرُّف کا تعلق قائم کرلینا ، جیسا پہلے جسم کے ساتھ تھا ، یہ عربی میں “ تَنَاسُخ “ اور ہندی میں “ آواگون “ کہلاتا ہے۔
یہ نظریہ ہندوؤں میں آج بھی مسلَّمہ ہے ، جبکہ بعض اوقات کچھ وَسْوَسوں ، وَہموں ، جنات کی شرارتوں اور نَفْسِیاتی و دِماغی پیچیدگیوں کی وجہ سے پیش آنے والے عجیب و غریب اَحوال کی وجہ سے ماہرِ نَفْسِیات کہلانے والے کچھ لوگ بھی اس طرح کے نظریے کا شکار ہوجاتے ہیں ، اگرچہ (دوچار کے سوا)دنیا کے اکثر محقق ماہرینِ نَفْسیات اس نظریے کوجھوٹ ، غلط یا غیر ثابت مانتے ہیں۔ ہمارے ہاں کچھ لوگوں کو ہلدی کی ڈَنْڈِی پکڑ کر پَنْساری بننے کا شوق ہے ، لہٰذا اُنہیں دنیا میں جہاں کہیں کوئی الٹی سیدھی ، بےتکی بات نظر آئے وہ شہرت کی خاطر یا حماقت کی وجہ سے لوگوں کا دین و ایمان خراب کرنے کےلئے پیش کردیتے ہیں۔ تناسخ کا نظریہ ، اسلام کے مُنافی ہے کیونکہ ایسا عقیدہ رکھنا ، اسلام کے بنیادی عقیدے قیامت و حشر و نشر یعنی مرنے کے بعد اٹھنے سے انکار کے مترادف ہے۔
قرآن و حدیث اِس نظریے کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔ موت آنے پر کسی بھی شخص کے دوبارہ دنیا میں دوبارہ زندگی گزارنے کےلئے آنے کو قرآن مجید میں سختی سے رد کیا گیا ہے ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب! مجھے واپس لوٹا دے۔ جس دنیا کو میں نے چھوڑدیا ہے شاید اب میں اُس میں (دوبارہ واپس جاکر) کچھ نیک عمل کرلوں۔ (ایسے کو جواب دیا جاتا ہے کہ دنیا میں واپسی) ہرگز نہیں (ہوگی)! یہ (دنیا میں دوبارہ جانے اور اچھے کام کرنے کی) تو ایک بات ہے جو وہ (مرنے والا)کہہ رہا ہے اور ان(مرجانے والوں) کے آگے (دنیا میں واپسی کی راہ میں ) ایک رکاوٹ ہے اُس دن تک جس دن وہ اٹھائے جائیں گے۔ [1]
اِس آیت کریمہ میں اللہ پاک نے واضح طور پربتادیا کہ کافر مرتے وقت بہت فریاد اور آہ و زاری کرکے آواگون یعنی دوبارہ دنیا میں آنے کی درخواست کریں گے ، لیکن اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کی “ آواگون کی درخواست‘‘ رد کردے گا اور کسی صورت اُنہیں دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجے گا ، بلکہ قیامت تک برزخی زندگی ہی میں رکھا جائے گا اور وہیں سے آگے قیامت کے دن کے لئے دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کی موت کے بعد اب تک اور پھر قیامت تک صبح شام عذاب دینے کا تذکرہ کیا ، جو اُن لوگوں کے آواگون نہ ہونے کی قطعی دلیل ہے ، چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے : اور فرعونیوں کو برے عذاب نے آ گھیرا۔ آگ ہے جس پر صبح و شام (عذاب کے لئے) انہیں پیش کیا جاتا ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی ، (اس دن کہا جائے گا) فرعونیوں کو سخت تر عذاب میں داخل کردو۔ [2]
سورۃ الزمر میں فرمایا کہ موت کے وقت اور نیند کی حالت میں روح لے لی جاتی ہے ، لیکن نیند میں روح کا بدن سے قَوی اثرات والا تعلق باقی رہتاہے اور بیداری کے وقت وہ روح جسم میں پوری طرح چھوڑ دی جاتی ہے ، جبکہ موت کے بعد جو روح بدن سے کھینچ لی جاتی ہے ، اُسے اللہ تعالیٰ اپنے پاس روک لیتا ہے اور دوبارہ زندگی گزارنے کےلئے بدن میں واپس نہیں بھیجتا ، چنانچہ فرمایا : اللہ جانوں کواُن کی موت کے وقت وفات دیتا ہے اور جو نہ مریں انہیں ان کی نیند کی حالت میں پھر جس پر موت کا حکم فرمادیتا ہے اسے (یعنی اس روح کو) روک لیتا ہے (واپس نہیں بھیجتا) اور دوسرے (یعنی نیندوالے کی روح)کو ایک مقرر ہ مدت(موت) تک (کےلئے) چھوڑ دیتا ہے۔ [3]
سینکڑوں احادیث میں موت سے لے کر قیامت تک کے معاملات کا بیان موجود ہے ، جن میں سے چند اُمُور کا ذکر کرتا ہوں : (1)موت کے وقت فرشتے اس کی روح قبض کرنے کے لئے آتے ہیں۔ (2)موت کے بعد اُسے مختلف مقامات پر لے جاتے ہیں۔ (3)مردہ ، اپنے اہلِ خانہ کو جلد دَفْنانے کےلئے کہتا ہے۔ (4)مردہ ، اپنے دفنانے والوں کے قدموں کی آواز سنتا ہے۔ (5)قبر میں مردے سے مُنکَر نکِیر یعنی دو فرشتے سوال کرتے ہیں (6)روح آسمانوں کی طرف جاتی ہے۔ (7)فرشتوں کو دیکھتی ہے ، ان کی باتیں سنتی اور ان سے باتیں کرتی ہے۔ (8)جنتی روح کو اس کا جنتی ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے۔ (9)میت اہلِ خانہ کی طرف سے صَدَقات کی منتظر رہتی ہے ۔ (10)نیک روح کے لئے قبر منتہائے نظر تک وسیع کردی جاتی ہے۔ (11)میت کو زندوں کے اعمال سنائے جاتے ہیں ، وہ نیکیوں پرخوش اور بُرائیوں پرغمگین ہوتی ہے۔ (12)روحیں آپس میں ملاقاتیں کرتی ہیں۔ (13)کئی نیک روحیں حضور سیدِ دو عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور اولیائے کرام کی خدمت میں حاضر ہوتی ہیں۔ (14)کئی اَرْوَاح کو قبر میں نمازیں پڑھنے اور تلاوتِ قرآن کی سعادت ملتی ہے۔ (15)راہِ خدا میں شہید ہونے والے دوبارہ شہید ہونے کی آرزو کرتے ہیں۔ (16)بہت سے مسلمانوں کی روحیں سبز یا سفید پرندوں کے پیٹوں میں اور بہت سی سونے کی قندیلوں میں عرش کے نیچے بسیراکرتی ہیں۔ (17)گناہگاروں کی روحیں کئی طرح کے عذاب میں مبتلا ہوتی ہیں۔ (18)کفار کی روحیں قیامت تک عذاب کا شکار رہتی اور سجین میں قید رہتی ہیں۔ اس طرح کی حدیثیں تمام بڑی کتبِ احادیث میں موجود ہیں اور بطورِ خاص علامہ سُیوطی رحمہ اللہ نے اس موضوع پر “ شرح الصدور بشرح حال الموتی والقبور “ اور علامہ قرطبی مالکی نے ’’ کتاب التذکرۃ باحوال الموتی وامور الآخرۃ “ میں اس پر تفصیل سے روایات جمع کی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے علماء نے اس پر مُفَصَّل کتابیں لکھی ہیں۔
یہ سب اِسلامی روایات اور قرآن و حدیث کا خلاصہ ہے۔ کیا اِن عقائد و معلومات کی روشنی میں کہیں نظر آتا ہے کہ تناسخ ، آواگون کے نظریے کی اسلام میں کہیں گنجائش ہے؟ ہرگز نہیں۔ اسلامی قطعی عقیدے کے مقابلے میں چند لوگوں کے دِماغی خَلَل کو بنیاد بناکر “ آواگون “ کے نظریے کو درست سمجھنا اور کروڑوں مسلمانوں کو اس باطل نظریے کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرنا نہایت تباہ کُن اور صریح اِسلام دشمنی کا اِقدام ہے ، اگرچہ یہ بیان کرنے والا اپنی طرف سے کتنی ہی اچھی نیت کرے۔
مضمون کے شروع میں چند آیات ذکر کی ہیں جبکہ احادیث کا صرف خلاصہ ہی بیان کیا ہے۔ مؤمنوں کے ایمان کو مزید پختہ کرنے اور کفر و ضَلالت کے عقیدے سے بچانے کےلئے چند احادیث بھی نقل کردیتا ہوں ، تاکہ ہر مسلمان اُن احادیث کو پڑھ بھی لے کیونکہ مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا کے کسی بڑے سے بڑے ماہر نَفْسیات (حقیقتاً مریضِ نَفْسیات) اور ہمہ دانی (سب کچھ جاننے) کے تکبر میں مبتلا لوگوں کی کوئی بات یا من گھڑت تحقیق ہمارے آقا و مولا حضرت محمد رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فرامین کے مقابلے ایک ٹکے کی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔
احادیث یہ ہیں : ایک تفصیلی حدیث میں سوالاتِ قبر اور میت کے جوابات کے بارے میں نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا ، جس کے ابتدائی مختصر الفاظ یہ ہیں : اُس (میت) کے پاس دو فرشتے آتے ہیں ، اُسے اُٹھا کر بٹھاتے ہیں اور اُس سے پوچھتے ہیں : تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے : اﷲ میرا رب ہے۔ ۔ ۔ الی آخرہ۔ [4]
ایک دفعہ صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم ایک میت کی تدفین کر کے واپس لوٹنے لگے تو نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : إنّه الآن يسمع خفق نعالکم۔ ترجمہ : تمہارے واپس پلٹنے پر یہ میت اب تمہارے جوتوں کی آواز سنے گی۔ [5]
چند الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ یہی روایت بخاری شریف میں بھی موجود ہے ، چنانچہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : العبد إذا وضع في قبره ، وتولي وذهب أصحابه حتى إنه ليسمع قرع نعالهم۔ ترجمہ : بندے کو جب قبر میں اتارا جاتا ہے اور اُس کی تدفین کو آنے والے ساتھی واپس جانے لگتے ہیں تو وہ میت اُن کے جوتوں کی چاپ تک کو بھی سن رہی ہوتی ہے۔ [6]
غزوۂ بدر کے بعد فاتِحانہ شان سےلوٹتے ہوئے نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک گڑھے کے پاس آئے ، اُس گڑھے میں قتل ہوئے کفار کی لاشوں کو ڈالا گیا تھا ، وہاں آکر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک ایک کافر کا نام لے کر انہیں مخاطب کیا اور انہیں تنبیہ کی ، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اُن مردوں سے گفتگو کرنے سے حضرت عمر رضی اللہُ عنہ متعجب ہوئے اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا : کیا آپ اُن جسموں سے بات کر رہے ہیں کہ جن میں روح ہی نہیں؟ تو نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جواباً فرمایا : والذي نفس محمد بيده ما أنتم بأسمع لما أقول منهم۔ ترجمہ : اُس ذات کی قسم کہ جس کے قبضۂ قدرت میں مجھ محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جان ہے ، تم میری بات کو اُن سے زیادہ نہیں سن سکتے۔ یعنی وہ بھی تمہاری طرح ہی سنتے ہیں۔ [7]